ظلمتِ عصیاں سے میرے بن گیا شبِ روزِ حشر — شیخ ابراہیم ذوق

ظلمتِ عصیاں سے میرے بن گیا شبِ روزِ حشر آفتاب اک نیزے پر بومِ دار تارا ہو گیا

“From the darkness of my sins the Day of Judgment turned to night— The sun, a spear's length high, became a dark star on the gallows' height.”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

میرے گناہوں کی تاریکی سے قیامت کا دن بھی رات بن گیا؛ سورج، جو ایک نیزے کے برابر بلند تھا، سولی کے تختے پر ایک سیاہ ستارے کی مانند ہو گیا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر اپنے گناہوں کی تاریکی کو اتنا گہرا بتاتا ہے کہ قیامت کا روشن دن بھی رات میں بدل جاتا ہے۔ ایک مشہور روایت ہے کہ حشر کے دن سورج ایک نیزے کی بلندی پر اُتر آئے گا—مگر یہاں شاعر کہتا ہے کہ میرے گناہوں کی سیاہی نے اُس تپتے سورج کو بھی ایک کالے ستارے میں بدل دیا، گویا وہ دار کے تختے پر لٹکا ہو۔ یہ اپنی خطاؤں کے احساس کی انتہا ہے—اتنی شرمندگی کہ کائنات کا سب سے بڑا اجالا بھی بجھ جائے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.