رشک سے اُس زلف کے کیا شک ہے بکھرے جو عنبر — شیخ ابراہیم ذوق

رشک سے اُس زلف کے کیا شک ہے بکھرے جو عنبر بلکہ جل کر سوختہ عنبر بھی سارا ہو گیا

“No wonder, out of envy for those tresses, the ambergris lies scattered— nay, burnt to cinders, all the ambergris has turned to ash and dust.”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

اُس زلف پر رشک کے باعث عنبر کا بکھر جانا کوئی تعجب نہیں؛ بلکہ جل کر سوختہ ہو کر سارا عنبر ہی ختم ہو گیا۔

تشریح

اِس شعر میں شاعر محبوب کی زلف کی خوشبو اور حُسن کو اِتنا بلند بتاتا ہے کہ عنبر جیسی قیمتی و معطر چیز بھی اُس کے سامنے شرمندہ ہو کر بکھر جاتی ہے۔ محبوب کی لٹوں کی مہک پر عنبر کو اِس قدر رشک آتا ہے کہ وہ جل جل کر سوختہ اور راکھ ہو جاتا ہے۔ یہ دنیا کی ہر نفیس شے کے محبوب کے حُسن کے آگے ہیچ ہو جانے کا نہایت لطیف بیان ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.