ہر حبابِ بحر کی کھل جائے گی تارا سی آنکھ — شیخ ابراہیم ذوق

ہر حبابِ بحر کی کھل جائے گی تارا سی آنکھ عکس افگن گر یہ رخِ روشن تمھارا ہو گیا

“Each bubble on the ocean's face would open like a star's bright eye, if once your luminous countenance cast down its shimmering reflection there.”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

سمندر کے ہر بلبلے کی آنکھ تارے کی طرح کھل جائے گی، اگر تمھارا یہ روشن چہرہ اس پر اپنا عکس ڈال دے۔

تشریح

ذرا تصور کیجیے — سمندر کی سطح پر اٹھتا ہر نازک بلبلہ جو لمحوں میں پھوٹ کر مٹ جاتا ہے، اگر اُس پر آپ کے روشن چہرے کا عکس پڑ جائے تو وہی بلبلہ ستارے کی چمکتی آنکھ بن کر کھل اٹھے گا۔ شاعر اِس بات پر حیران ہے کہ محبوب کا نور بے جان اور فانی چیزوں کو بھی روشنی اور بینائی بخش دیتا ہے۔ گہرائی میں یہ عشق و حسن کی اُس کیمیا گری کا بیان ہے جو فانی کو بقا اور معمولی کو نورانی بنا دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.