دل پہ زخموں کی ترقی سے ہوئی اور اک بہار — شیخ ابراہیم ذوق
“With the flourishing of wounds, another spring bloomed upon my heart— Once it was a hundred-petalled rose, now it has grown a thousandfold.”
معنی
زخموں کے بڑھنے سے دل پر ایک اور بہار آ گئی؛ پہلے یہ پھول سو پتیوں والا تھا، اب ہزار پتیوں والا ہو گیا۔
تشریح
کیا خوبصورت خیال باندھا ہے — شاعر اپنے دل کے بڑھتے زخموں کو ایک اور بہار کی آمد قرار دے رہے ہیں۔ جیسے بہار میں پھول کھلتے ہیں، ویسے ہی ہر نیا زخم دل پر کھل اٹھتا ہے۔ پہلے دل صد برگ یعنی سو پنکھڑیوں والا گلاب تھا، اور اب زخموں کی ترقی سے وہ ہزارا گلاب بن گیا ہے — یعنی درد اتنا بڑھا کہ وہی اس کا حسن بن گیا۔ یہاں تکلیف کو شکایت نہیں بلکہ ایک نکھار اور فراوانی کی صورت میں دیکھا گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
