شیخ نے افطار یوں کے تر نوالے کھائے خوب — شیخ ابراہیم ذوق
“The Sheikh devoured the juicy morsels of the iftar feasts with relish, yet from the heat of all his fasting he has shrivelled to a dried date.”
معنی
شیخ نے افطار کے رسیلے اور تر نوالے خوب جی بھر کر کھائے، مگر پھر بھی روزوں کی گرمی سے سوکھ کر چھوہارا بن گیا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر نے بڑی لطافت سے شیخ کی ریاکاری پر چوٹ کی ہے۔ شیخ نے افطار کے وقت تر اور رسیلے نوالے خوب ڈٹ کر کھائے، پھر بھی وہ دعویٰ کرتا ہے کہ روزوں کی تپش سے وہ سوکھ کر چھوہارا بن گیا ہے۔ چھوہارے کا استعارہ کمال کا ہے — جو میٹھا اور افطار سے جڑا ہے، وہی اب اس کی جھوٹی ریاضت کی علامت بنا دیا گیا ہے۔ دراصل یہاں ان مذہبی ٹھیکیداروں پر طنز ہے جو اندر سے خوب مزے لوٹتے ہیں مگر باہر تقویٰ اور پرہیزگاری کا ناٹک کرتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
