غزل

جانے ترابؔ کی بلا کون ہے اور ہوا

جانے ترابؔ کی بلا کون ہے اور ہوا

یہ غزل محبوب کے لطیف و غیر مرئی وجود اور عشق کی سرشار دیوانگی کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر بتاتا ہے کہ محبوب کو محض ظاہری اشیاء یا پھولوں میں ڈھونڈنا لاحاصل ہے، کیونکہ اس کی حقیقت ہوا میں رچی ہوئی خوشبو کی طرح ہر سو بکھری ہوئی ہے۔

Source: Divan-e-Turab · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
जाने तुराब की बला कौन है और हवा दीवाना बयान तेरा अब
جانے ترابؔ کی بلا کون ہے اور ہوا دیوانہ بیان تیرا اب
کون جانے تراب پر کیا مصیبت آئی ہے یا کیا ہوا ہے، کہ اب تمہاری باتیں دیوانوں جیسی ہو گئی ہیں۔
2
फूलों में न उसको ढूँढो है बू-ए-गुल उस में और हवा
پھولوں میں نہ اوسکو ڈھونڈھو ہے بوئے گل اوس میں اور ہوا
اُسے صرف پھولوں میں مت تلاش کرو، کیوں کہ وہ پھول کے اندر کی خوشبو بھی ہے اور ہوا بھی۔
3
सूत नहीं है दूर तूल इस का है तार-ए-शुआई फ़ज़ा और हवा
سوت نہیں ہے دور طول اس کا ہے تار شعاعی فضا اور ہوا
اس کا دور تک پھیلا ہوا طول سوتی دھاگے سے نہیں بنا، بلکہ یہ فضا اور ہوا روشنی کی شعاعوں کے تاروں سے تیار ہوئی ہے۔
4
मयकदा में जो बैठ कर पीता है मस्ती का नशा और हवा
میکدہ میں جو بیٹھ کر پیتا ہے مستی کا نشہ اور ہوا
جو شخص شراب خانے میں بیٹھ کر پیتا ہے، اس کے لیے مستی کا نشہ اور وہاں کا عالم ہی کچھ اور ہوتا ہے۔
5
शबनम की तरह झलक रही है है आब-ए-हया और हवा
شبنم کی طرح جھلک رہی ہے ہے آب حیا اور ہوا
یہ شبنم کے قطروں کی طرح چمک رہی ہے، جس میں شرم و حیا کی تازگی اور ہوا کا احساس ہے۔
6
दश्त-ओ-जबल में जो वादा सुना और हवा है शोर-ए-क़यामत बपा और हवा
دشت و جبل میں جو وعدہ سنا اور ہوا ہے شور قیامت بپا اور ہوا
صحراؤں اور پہاڑوں میں جو وعدہ سنا گیا تھا وہ ہوا ہو گیا، اور یہاں قیامت کا شور مچا ہوا ہے اور تیز ہوا چل رہی ہے۔
7
शब रात जहाँ ख़्वाब में तू दिखलाया है ख़्वाब का मज़े लिया और हवा
شب رات جہاں خواب میں تو دکھلایا ہے خواب کا مزے لیا اور ہوا
پچھلی رات جب تم مجھے خواب میں نظر آئے، تو میں نے اس خواب کا لطف اٹھایا اور پھر وہ ہوا کی طرح غائب ہو گیا۔
8
जबीन नामा-ए-यार का मुँह से लिया और हवा वाक़िआ तो बहुत है इश्क़ का और हवा
جبین نامہ یار کا منھ سے لیا اور ہوا واقعہ تو بہت ہے عشق کا اور ہوا
میں نے محبوب کے خط کو ماتھے اور منہ سے لگایا اور وہ ہوا ہو گیا؛ عشق میں ایسے بہت سے واقعات ہوتے ہیں اور یہ بھی انہی میں سے ایک واقعہ تھا۔
9
काले काले हैं ग़ज़ब गेसू यारो है ज़ुल्फ़ वह या बोरी में और हवा
کالے کالے ہیں غضب گیسو یارو ہے زلف وہ یا بوری میں اور ہوا
اے دوستو! وہ بال حد درجہ سیاہ اور غضب کے ہیں؛ وہ واقعی زلف ہے یا کسی بوری میں بھری ہوئی ہوا ہے؟
10
देखनी ही मानिंद-ए-संदल और हवा है रंग-ए-हिनाई में और हवा
دیکھنی ہی مانند صندل اور ہوا ہے رنگ حنائی میں اور ہوا
دیکھنے میں یہ صندل کی مانند ایک جداگانہ کیفیت رکھتا ہے، جبکہ حنا کے رنگ میں اس کی فضا اور تاثر بالکل الگ ہے۔
11
मुबारक तुझको रात क्या ही जला और हवा है नूर-ए-शम्अ में और हवा
مبارک تجھکو رات کیا ہی جلا اور ہوا ہے نور شمع میں اور ہوا
تمہیں یہ رات مبارک ہو کہ کیا خوب جلا اور کیسی ہوا چلی؛ شمع کے نور میں ایک الگ ہی چمک ہے اور فضا میں ایک الگ ہی کیفیت ہے۔
12
यह ख़त है जो मुँह पर यार का है सब्ज़ा-ए-नौ-ख़ेज़ में और हवा
یہ خط ہے جو منہ پر یار کا ہے سبزہ نو خیز میں اور ہوا
محبوب کے چہرے پر جو یہ خط (ہلکا رواں) نمودار ہوا ہے، یہ ایسا ہے جیسے نئی اگی ہوئی گھاس میں تازہ ہوا چل پڑی ہو۔
13
मुझको तो है दस्त-ए-मददगार ख़ुदा है दस्त-ए-पीर में और हवा
مجھکو تو ہے دستِ مددگار خدا ہے دستِ پیر میں اور ہوا
میرے لیے تو مددگار ہاتھ خود خدا کا ہے، جبکہ پیر کے ہاتھ میں سوائے ہوا کے کچھ بھی نہیں ہے۔
14
तुम्हें बतावे क्या तुराब यही है है होश में और हवा
تمہیں بتاوے کیا ترابؔ یہی ہے ہے ہوش میں اور ہوا
آپ کو کیا بتائیں، اس تراب (مٹی) کا یہی حال ہے کہ وہ پورے ہوش و حواس میں ہوتے ہوئے بھی ہوا میں اڑی جا رہی ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.