“What can one tell you—such is this dust, / it keeps its senses, yet drifts on the wind.”
آپ کو کیا بتائیں، اس تراب (مٹی) کا یہی حال ہے کہ وہ پورے ہوش و حواس میں ہوتے ہوئے بھی ہوا میں اڑی جا رہی ہے۔
شاعر نے یہاں اپنے تخلص 'تراب' (جس کے لغوی معنی خاک یا مٹی کے ہیں) کے ساتھ بڑا دلنشین کھیل کھیلا ہے۔ وہ عشق کے اس انوکھے تضاد کی تصویر کشی کرتے ہیں جہاں انسان پورے ہوش و حواس میں ہوتے ہوئے بھی بے بس ہے اور جذبوں کی ہوا کے رحم و کرم پر اڑتا پھرتا ہے۔ یہ باخبری اور بے اختیاری کا ایسا خوبصورت ملاپ ہے جو دل کو چھو لیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
