“Who knows what curse of swirling dust this is, and what wild wind in the air? Utterly crazed and raving now is the tale your words declare.”
کون جانے تراب پر کیا مصیبت آئی ہے یا کیا ہوا ہے، کہ اب تمہاری باتیں دیوانوں جیسی ہو گئی ہیں۔
اس شعر میں شاعر نے اپنے تخلص 'تراب' (جس کے لغوی معنی خاک یا مٹی ہیں) اور ہوا کی علامت سے دل کے اندر برپا طوفان کی بڑی دلکش تصویر کشی کی ہے۔ وہ گویا خود سے یا محبوب سے حیرت سے پوچھتے ہیں کہ یہ کیسی بلا یا جنون کا غلبہ ہے جس نے تمہاری باتوں کو اس قدر دیوانہ وار اور بے ساختہ کر دیا ہے۔ یہ کیفیت محبت کے اس شدید اضطراب کو دکھاتی ہے جہاں ہوش مندی رخصت ہو جاتی ہے اور گفتگو جنون کا روپ دھار لیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
