یہ خط ہے جو منہ پر یار کا ہے سبزہ نو خیز میں اور ہوا

“The soft down emerging upon the beloved's cheek is like a fresh breeze stirring through newly sprouted grass.”

— شاہ تراب علی قلندر
معنی

محبوب کے چہرے پر جو یہ خط (ہلکا رواں) نمودار ہوا ہے، یہ ایسا ہے جیسے نئی اگی ہوئی گھاس میں تازہ ہوا چل پڑی ہو۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے محبوب کے چہرے پر نمودار ہونے والے ہلکے اور نرم و نازک خط کو بڑی خوبصورتی سے سراہا ہے۔ وہ اس نوخیز سبزی یعنی چہرے کے ملائم روئیں کو تازہ اگی ہوئی ہری گھاس سے تشبیہ دیتا ہے جس میں دھیمی ہوا کی لہر سے ایک نیا ہی نکھار پیدا ہو گیا ہو۔ یہ محض جوانی کے آغاز کا بیان نہیں، بلکہ محبت کے اس احساس کو ظاہر کرتا ہے جہاں محبوب کی ہر نئی کیفیت عاشق کے دل میں حسن کی ایک نئی بہار لے آتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.