جبین نامہ یار کا منھ سے لیا اور ہوا واقعہ تو بہت ہے عشق کا اور ہوا

“I pressed my brow to the beloved’s letter, kissed it, and it vanished into air; countless are the tales of love, and this event too was scattered by the wind.”

— شاہ تراب علی قلندر
معنی

میں نے محبوب کے خط کو ماتھے اور منہ سے لگایا اور وہ ہوا ہو گیا؛ عشق میں ایسے بہت سے واقعات ہوتے ہیں اور یہ بھی انہی میں سے ایک واقعہ تھا۔

تشریح

اس شعر میں محبوب کے خط کو انتہائی عقیدت و محبت سے پیشانی پر رکھنے اور چومنے کا دلکش منظر ہے، مگر پلک جھپکتے ہی وہ نازک لمحہ ہوا ہو کر اڑ گیا۔ شاعر نے 'اور ہوا' کے خوبصورت لفظی الٹ پھیر سے یہ دکھایا ہے کہ دل کا سب سے قیمتی تجربہ بھی پل بھر میں محض ایک خواب بن گیا۔ عشق کی تاریخ تو ویسے بھی رنج و الم کے ان گنت واقعات سے بھری پڑی ہے، اور یہ واقعہ بھی ہوا کے دوش پر بکھر کر اسی لامتناہی داستان کا خاموش حصہ بن گیا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.