“I pressed my brow to the beloved’s letter, kissed it, and it vanished into air; countless are the tales of love, and this event too was scattered by the wind.”
میں نے محبوب کے خط کو ماتھے اور منہ سے لگایا اور وہ ہوا ہو گیا؛ عشق میں ایسے بہت سے واقعات ہوتے ہیں اور یہ بھی انہی میں سے ایک واقعہ تھا۔
اس شعر میں محبوب کے خط کو انتہائی عقیدت و محبت سے پیشانی پر رکھنے اور چومنے کا دلکش منظر ہے، مگر پلک جھپکتے ہی وہ نازک لمحہ ہوا ہو کر اڑ گیا۔ شاعر نے 'اور ہوا' کے خوبصورت لفظی الٹ پھیر سے یہ دکھایا ہے کہ دل کا سب سے قیمتی تجربہ بھی پل بھر میں محض ایک خواب بن گیا۔ عشق کی تاریخ تو ویسے بھی رنج و الم کے ان گنت واقعات سے بھری پڑی ہے، اور یہ واقعہ بھی ہوا کے دوش پر بکھر کر اسی لامتناہی داستان کا خاموش حصہ بن گیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
