دشت و جبل میں جو وعدہ سنا اور ہوا ہے شور قیامت بپا اور ہوا

“Across wild desert and steep hills, the promise heard dissolved into thin air; The tumult of Doomsday has broken loose, and yet a fiercer storm begins to stir.”

— شاہ تراب علی قلندر
معنی

صحراؤں اور پہاڑوں میں جو وعدہ سنا گیا تھا وہ ہوا ہو گیا، اور یہاں قیامت کا شور مچا ہوا ہے اور تیز ہوا چل رہی ہے۔

تشریح

اس شعر میں ویرانی، ٹوٹے ہوئے عہد اور قیامت خیز کیفیت کو کمال کی دلکشی سے بیان کیا گیا ہے۔ شاعر نے لفظ 'ہوا' کی معنوی رعایت سے خوبصورت سحر پیدا کیا ہے، جہاں دشت و جبل میں سنا گیا وعدہ یا تو غائب ہو گیا یعنی ہوا ہو گیا، یا پھر اس نے خود ہواؤں کو تند کر دیا۔ اب حال یہ ہے کہ قیامت کی ہلچل مچی ہوئی ہے اور طوفان مزید شدت اختیار کر رہا ہے، جیسے وعدہ شکنی کائنات کے انتشار سے بھی زیادہ روح فرسا ہو۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.