غزل
तेरा रुख़-ए-मुख़त्तत क़ुरआन है हमारा
तेरा रुख़-ए-मुख़त्तत क़ुरआन है हमारा
یہ غزل ایک گہرے اور عقیدت بھرے محبت کا اظہار ہے، جس میں محبوب کے چہرے کا موازنہ مقدس قرآن سے کیا گیا ہے۔ شاعر یہ تاثر دیتا ہے کہ اس کی وفاداری اتنی مکمل ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی بے قراری یا عدم استحکام کو قبول کرنے کو تیار ہے۔ یہ محبوب کے دلکش اثر کے سامنے مکمل طور پر سر تسلیم خم کرنے کا ایک پرجوش اقرار ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
तेरा रुख़-ए-मुख़त्तत क़ुरआन है हमारा
बोसा भी लें तो क्या है ईमान है हमारा
تیرا رخِ مُخَطَّت قرآن ہے ہمارا، بوسہ بھی لیں تو کیا ہے ایمان ہے ہمارا۔
2
गर है ये बे-क़रारी तो रह चुका बग़ल में
दो रोज़ दिल हमारा मेहमान है हमारा
اگر یہ بے قراری ہے تو میں تمہارے پہلو میں رہ جاؤں، کیونکہ ہمارا دل صرف دو روز کا مہمان ہے۔
3
हैं इस ख़राब दिल से मशहूर शहर-ए-ख़ूबाँ
इस सारी बस्ती में घर वीरान है हमारा
اس خراب دل سے مشہور شہرِ خوباں ہے، مگر اس ساری بستی میں ہمارا گھر ویران ہے۔
4
मुश्किल बहुत है हम सा फिर कोई हाथ आना
यूँ मारना तो प्यारे आसान है हमारा
ہم جیسے شخص کو پانا بہت مشکل ہے، مگر ہمیں مارنا ہمارے لیے آسان ہے۔
5
इदरीस ओ ख़िज़्र ओ ईसा क़ातिल से हम छुड़ाए
उन ख़ूँ-गिरफ़्तगाँ पर एहसान है हमारा
اذریس، اے خضر، اے عیسیٰ سے ہم کو قاتل سے چھڑائے، اُن خون-گرفتگان پر احسان ہے ہمارا۔
6
हम वे हैं सुन रखो तुम मर जाएँ रुक के यकजा
क्या कूचा कूचा फिरना उनवान है हमारा
ہم وہ ہیں؛ سن لو، تم رک کر مر جاؤ، یہ ہمارا عنوان ہے کہ ہر گلی میں گھومنا۔
7
हैं सैद-गह के मेरी सय्याद क्या न धड़के
कहते हैं सैद जो है बे-जान है हमारा
اگر سید-گہ میرے ہے تو میری سید کیوں نہیں دھڑکتا؟ کہتے ہیں کہ ہمارا سید بے جان ہے۔
8
करते हैं बातें किस किस हंगामे की ये ज़ाहिद
दीवान-ए-हश्र गोया दीवान है हमारा
یہ زاہد پوچھ رہا ہے کہ تم کس طرح کے ہنگامے کی باتیں کر رہے ہو، گویا کہ دیوانِ حشر (قیامت کا میدان) ہمارا اپنا دیوان ہے۔
9
ख़ुर्शीद-रू का परतव आँखों में रोज़ हैगा
यानी कि शर्क़-रूया दालान है हमारा
خورشید کے چہرے کا پردہ آنکھوں میں روز ہوگا، یعنی کہ مشرق کی طرف دارالحکومیت ہمارا ہے۔
10
माहिय्यत-ए-दो-आलम खाती फिरे है ग़ोते
यक क़तरा ख़ून ये दिल तूफ़ान है हमारा
دو لوکوں کا راز گہرائیوں میں بھٹکتا ہے، یہ ایک قطرہ خون، اے دل، ہمارا طوفان ہے۔
11
नाले में अपने हर शब आते हैं हम भी पिन्हाँ
ग़ाफ़िल तिरी गली में मिंदान है हमारा
नाले میں ہم اپنی ہر سانس لاتے ہیں، ہم بھی پیارے، اور تمہاری گلی میں ہمارا میدان ہے، جو بے خبر اور بڑا ہے۔
12
क्या ख़ानदाँ का अपने तुझ से कहें तक़द्दुस
रूहुल-क़ुदूस इक अदना दरबान है हमारा
کس خاندان کو یہ دعویٰ کرنے کا حق ہے کہ وہ آپ سے، اے مقدس، کچھ بھی کہے؟ ہماری روح تو محض ایک معمولی محافظ ہے۔
13
करता है काम वो दिल जो अक़्ल में न आवे
घर का मुशीर कितना नादान है हमारा
کرتا ہے کام وہ دل جو عقل میں نہ آوے، گھر کا مشیر کتنا ناداں ہے ہمارا۔
14
जी जा न आह ज़ालिम तेरा ही तो है सब कुछ
किस मुँह से फिर कहें जी क़ुर्बान है हमारा
اے جا ن آه زالِم، تیرا ہی تو ہے سب کچھ؛ کس منہ سے پھر کہیں، جی قُربان ہے ہمارا۔
15
बंजर ज़मीन दिल की है 'मीर' मिल्क अपनी
पुर-दाग़ सीना मोहर-ए-फ़रमान है हमारा
دل بنجر زمین ہے، اے میر، یہ ملک اپنی ہے؛ اور یہ پردگ سینہ موہرِ فرمان ہے ہمارا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
