करते हैं बातें किस किस हंगामे की ये ज़ाहिद
दीवान-ए-हश्र गोया दीवान है हमारा
“What tales do you tell of what kind of uproar, oh ascetic, As if the court of Judgment were our own hall of poetry.”
— میر تقی میر
معنی
یہ زاہد پوچھ رہا ہے کہ تم کس طرح کے ہنگامے کی باتیں کر رہے ہو، گویا کہ دیوانِ حشر (قیامت کا میدان) ہمارا اپنا دیوان ہے۔
تشریح
یہ شعر دنیاوی ہنگاموں اور آخرت کے بڑے سچائی کے تضاد پر ہے۔ شاعر ایک زاہد سے پوچھتے ہیں کہ آپ کس معمولی ہنگامے کی بات کر رہے ہیں، اور زاہد کا جواب یہ ہے کہ قیامت کا हंगामा بھی ہمارے ذاتی دیوان جیسا ہے۔ یہ ایک گہری بے فکری اور تقدیر کے تسلیم کا اظہار ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
