Sukhan AI
غزل

पलकों पे थे पारा-ए-जिगर रात

पलकों पे थे पारा-ए-जिगर रात
میر تقی میر· Ghazal· 16 shers

یہ غزل ایک جدائی یا محبوب کی یادوں میں گزرے وقت کے درد کو بیان کرتی ہے۔ شاعر نے اپنی آنکھوں اور دل میں بسے ہوئے یادوں کو ایک رات کی مانند پیش کیا ہے، جس میں وفاداری اور امیدیں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مدھم پڑ گئی ہیں۔ یہ ان لمحات کا ذکر ہے جب محبوب کے نہ ہونے سے دل مسلسل روتا رہتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
पलकों पे थे पारा-ए-जिगर रात हम आँखों में ले गए बसर रात
پکوں پر دل کی بے چینی رات بھر تھی، اور ہم نے پوری رات اپنی آنکھوں میں ہی گزار دی۔
2
इक दिन तो वफ़ा भी करते वा'दा गुज़री है उमीद-वार हर रात
ایک دن تو وفا بھی کرتے واعدہ، گزری ہے امید-وار ہر رات۔ (مطلب: کبھی کبھی وفاداری بھی وعدے کرتی ہے، اور ہر رات امیدوں سے بھری گزر گئی ہے۔)
3
मुखड़े से उठाईं उन ने ज़ुल्फ़ें जाना भी हम गई किधर रात
اس نے اپنے ماتھے سے زلفیں اٹھائیں؛ میں نہ جان سکی کہ وہ کہاں گئی، اور رات کہاں گئی۔
4
तू पास नहीं हुआ तो रोते रह रह गई है पहर पहर रात
اگر آپ قریب نہیں ہوئے تو میں ہر گزرتے لمحے میں روتی رہ گئی ہوں۔
5
क्या दिन थे कि ख़ून था जिगर में रो उठते थे बैठ दोपहर रात
وہ دن کیا تھے کہ جگر میں خون بہتا تھا، دوپہر اور رات میں بیٹھ کر رو اٹھنا فطری تھا۔
6
वाँ तुम तो बनाते ही रहे ज़ुल्फ़ आशिक़ की भी याँ गई गुज़र रात
تم تو بس زلف سنوارتی ہی رہیں، اور عاشق کے لیے بھی رات گزر گئی۔
7
साक़ी के जो आने की ख़बर थी गुज़री हमें सारी बे-ख़बर रात
ساقی کے آنے کی خبر ہی کافی تھی کہ ساری بے خبر رات گزر گئی۔
8
क्या सोज़-ए-जिगर कहूँ मैं हमदम आया जो सुख़न ज़बान पर रात
اے ہمدم، میں اپنے جگر کا کیا غم کہوں، جب رات کو زباں پر اتنا میٹھا سُخن آیا ہے۔ یہ اشارہ کرتا ہے کہ شعر کی خوبصورتی نے کسی بھی جذباتی درد کو مٹا دیا ہے۔
9
सोहबत ये रही कि शम-रवी ले शाम से ता-दम-ए-सहर रात
سہبت ایسی رہی کہ شام کی روشنی، رات کو صبح کے روشن دن جیسا محسوس کرا گئی۔
10
खुलती है जब आँख शब को तुझ बिन कटती नहीं आती फिर नज़र रात
جب آنکھ شب کو تجھ سے بنا کھلتی ہے، تو نظر رات بھر نہیں ٹھہرتی۔
11
दिन वस्ल का यूँ कटा कहे तू काटी है जुदाई की मगर रात
کہیں تو دنِ وصل کا यूँ کٹا کہے تو، کاٹی ہے جدائی کی مگر رات۔
12
कल थी शब-ए-वस्ल इक अदा पर उस की गए होते हम तू मर रात
کل تھی شبِ وصل اک ادا پر، ہم دونوں اُس رات میں گم ہو گئے۔
13
जागे थे हमारे बख़्त-ए-ख़ुफ़्ता पहुँचा था बहम वो अपने घर रात
ہمارے بختِ خُفتا تھا، جب وہ رات کو اپنے گھر بالکل گم ہو کر پہنچا۔
14
करने लगा पुश्त-ए-चश्म-ए-नाज़ुक सोते से उठा जो चौंक कर रात
करने لگا پُشتِ چشمِ نازک، سوتے سے اٹھا جو چونک کر رات۔
15
थी सुब्ह जो मुँह को खोल देता हर-चंद कि तब थी इक पहर रात
جب صبح منہ کو کھول دیتی تھی، تب ہر-चंद میں ایک پہر رات تھی۔
16
पर ज़ुल्फ़ों में मुँह छपा के पूछा अब होवेगी 'मीर' किस क़दर रात
زلفوں میں منہ چھپا کے میں نے پوچھا، 'میر'، کہ اب مزید رات کتنی باقی ہے؟
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

पलकों पे थे पारा-ए-जिगर रात | Sukhan AI