पर ज़ुल्फ़ों में मुँह छपा के पूछा
अब होवेगी 'मीर' किस क़दर रात
“Peeking into your tresses, I asked, 'Meer,' How much more of a night will it be?'”
— میر تقی میر
معنی
زلفوں میں منہ چھپا کے میں نے پوچھا، 'میر'، کہ اب مزید رات کتنی باقی ہے؟
تشریح
یہ شعر ایک انتہائی قریب اور رومانوی لمحے کی عکاسی کرتا ہے۔ محبوبہ اپنے زلفوں میں منہ چھپا کر پوچھتی ہیں، 'میر، اب کیسی رات ہوگی؟' یہ سوال صرف وقت کا نہیں، بلکہ اس گہرائی اور ان رازوں کا سوال ہے جو دونوں کے درمیان ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev16 / 16
