“Our fortune was restless, troubled, and straying, When he returned home in the night, completely lost.”
ہمارے بختِ خُفتا تھا، جب وہ رات کو اپنے گھر بالکل گم ہو کر پہنچا۔
میر تقی میر یہاں 'بخت-ے-خُفتا' سے مراد صرف قسمت کی بے چینی نہیں، بلکہ ایک ایسی مقدرہ ہے جو مسلسل بے قرار اور بھٹکتی ہوئی ہے۔ یہ شعر ایک گہرے تضاد کو پیش کرتا ہے؛ جب ہماری تقدیر بے چین ہو کر کہیں اور سرک رہی تھی، اُسی وقت وہ شخص مکمل طور پر گمشدہ ہو کر رات کے اندھیرے میں گھر پہنچا۔ یہ منظر ایک تلخ حقیقت ہے جو آنے کی خوشی میں بھی ایک بے یقینی اور غم کا احساس شامل کر دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
