غزل
लख़्त-ए-जिगर तो अपने यक-लख़्त रो चुका था
लख़्त-ए-जिगर तो अपने यक-लख़्त रो चुका था
یہ غزل بتاتی ہے کہ دل کا ایک حصہ (لختِ جگر) پہلے ہی اپنے آپ کے ایک ٹکڑے سے ٹوٹ چکا تھا۔ شاعر کہتا ہے کہ آنکھوں سے نکلنے والے آنسو (اشکِ فقت) और पलकों में दिल का एक टुकड़ा रह गया था। یہ غزل دل کے گہرے زخموں اور جذباتی جدائی کی حالت کا بیان کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
लख़्त-ए-जिगर तो अपने यक-लख़्त रो चुका था
अश्क-ए-फ़क़त का झमका आँखों से लग रहा था
لخت جگر تو اپنے یک لخت رو چکا تھا
اشک فقط کا جھمکا آنکھوں سے لگ رہا تھا
لَخْتِ-ے-جِگر تو اپنے یَک-لَخْت رو چکا تھا، یعنی دل کا ٹکڑا پہلے ہی پھٹ چکا تھا، اور اَشکِ-فَقت کا جھمکا آنکھوں سے لگ رہا تھا، یعنی آنکھوں سے آنسوؤں کی چمک آ رہی تھی۔
2
दामन में आज देखा फिर लख़्त मैं ले आया
टुकड़ा कोई जिगर का पलकों में रह गया था
دامن میں آج دیکھا پھر لخت میں لے آیا
ٹکڑا کوئی جگر کا پلکوں میں رہ گیا تھا
آج میں نے اسے تمہارے دامن میں دیکھا، اور میں ایک ٹکڑا واپس لے آیا، جو تمہارے جگر کا تھا اور میری پلکوں میں رہ گیا تھا۔
3
उस क़ैद-ए-जेब से मैं छोटा जुनूँ की दौलत
वर्ना गला ये मेरा जूँ तौक़ में फँसा था
اس قید جیب سے میں چھوٹا جنوں کی دولت
ورنہ گلا یہ میرا جوں طوق میں پھنسا تھا
اس قیدِ جیب سے میں چھوٹا جنون کی دولت، ورنہ گلا یہ میرا توق میں پھنسا تھا۔
4
मुश्त-ए-नमक की ख़ातिर इस वास्ते हूँ हैराँ
कल ज़ख़्म-ए-दिल निहायत दिल को मिरे लगा था
مشت نمک کی خاطر اس واسطے ہوں حیراں
کل زخم دل نہایت دل کو مرے لگا تھا
نمک کے آنسوؤں کی خاطر اس واسطے ہوں حیران؛ کل زخمِ دل نہایت دل کو میرے لگا تھا۔
5
ऐ गर्द-बाद मत दे हर आन अर्ज़-ए-वहशत
मैं भी कसू ज़माने इस काम में बला था
اے گرد باد مت دے ہر آن عرض وحشت
میں بھی کسو زمانے اس کام میں بلا تھا
اے گرد باد، ہر آن پر یہ ارجِ وہشت نہ دے؛ میں بھی کبھی زمانے کے اس کام میں بلا تھا۔
6
बिन कुछ कहे सुना है आलम से मैं ने क्या क्या
पर तू ने यूँ न जाना ऐ बेवफ़ा कि क्या था
بن کچھ کہے سنا ہے عالم سے میں نے کیا کیا
پر تو نے یوں نہ جانا اے بے وفا کہ کیا تھا
बिन कुछ کہے سنا ہے عالم سے میں نے کیا کیا، پر تو نے یوں نہ جانا اے بے وفا کہ کیا تھا۔
7
रोती है शम्अ' इतना हर शब कि कुछ न पूछो
मैं सोज़-ए-दिल को अपने मज्लिस में क्यूँ कहा था
روتی ہے شمع اتنا ہر شب کہ کچھ نہ پوچھو
میں سوز دل کو اپنے مجلس میں کیوں کہا تھا
شمع ہر رات اتنی روتی ہے کہ کچھ نہ پوچھو، میں سوزِ دل کو اپنے مجلس میں کیوں کہا تھا؟
8
शब ज़ख़्म-ए-सीना ऊपर छिड़का था मैं नमक को
नासूर तो कहाँ था ज़ालिम बड़ा मज़ा था
شب زخم سینہ اوپر چھڑکا تھا میں نمک کو
ناسور تو کہاں تھا ظالم بڑا مزہ تھا
میں نے زخمِ سینہ پر نمک چھڑکا تھا، ناصور تو کہاں تھا، ظالم بڑا مزہ تھا۔
9
सर मार कर हुआ था मैं ख़ाक उस गली में
सीने पे मुझ को उस का मज़कूर नक़्श-ए-पा था
سر مار کر ہوا تھا میں خاک اس گلی میں
سینے پہ مجھ کو اس کا مذکور نقش پا تھا
سر مار کر میں اس گلی میں خاک ہو گیا تھا، اور میرے سینے پر ان کا مذاق کا نقش بنا ہوا تھا۔
10
सो बख़्त-ए-तीरा से हूँ पामाली-ए-सबा में
उस दिन के वास्ते मैं क्या ख़ाक में मिला था
سو بخت تیرہ سے ہوں پامالیٔ صبا میں
اس دن کے واسطے میں کیا خاک میں ملا تھا
میں تمہارے بخت کے کھیل میں تھا صبح کی ہوا کے ساتھ؛ اس دن کے لیے میں نے مٹی میں کیا پایا تھا۔
11
ये सर-गुज़श्त मेरी अफ़्साना जो हुई है
मज़कूर उस का उस के कूचे में जा-ब-जा था
یہ سر گذشت میری افسانہ جو ہوئی ہے
مذکور اس کا اس کے کوچے میں جا بجا تھا
یہ سرگزشت میری افسانہ جو ہوئی ہے، مذکور اس کا اس کے کوچے میں جا بجا تھا۔
12
सुन कर किसी से वो भी कहने लगा था कुछ कुछ
बे-दर्द कितने बोले हाँ उस को क्या हुआ था
سن کر کسی سے وہ بھی کہنے لگا تھا کچھ کچھ
بے درد کتنے بولے ہاں اس کو کیا ہوا تھا
کسی سے سن کر، وہ بھی کچھ کہنے لگا تھا؛ بے درد کتنے بولے 'ہاں'، اسے کیا ہو گیا تھا۔
13
कहने लगा कि जाने मेरी बला अज़ीज़ाँ
अहवाल था किसी का कुछ मैं भी सुन लिया था
کہنے لگا کہ جانے میری بلا عزیزاں
احوال تھا کسی کا کچھ میں بھی سن لیا تھا
کہنے لگا کہ جانے میری بلا بلٰی عزیزان
احوال تھا کسی کا کچھ میں بھی سن لیا تھا
14
आँखें मिरी खुलीं जब जी 'मीर' का गया तब
देखे से उस को वर्ना मेरा भी जी जला था
آنکھیں مری کھلیں جب جی میرؔ کا گیا تب
دیکھے سے اس کو ورنہ میرا بھی جی جلا تھا
جب میری آنکھیں کھلی اور میں نے 'میر' کے جانے کو دیکھا، تب مجھے احساس ہوا کہ میرا دل بھی جل رہا تھا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
