شب زخم سینہ اوپر چھڑکا تھا میں نمک کو — میر تقی میر

شب زخم سینہ اوپر چھڑکا تھا میں نمک کو ناسور تو کہاں تھا ظالم بڑا مزہ تھا

“I sprinkled salt upon the wound of my chest, Where the ulcer was, O cruel one, what a delight it was.”

— میر تقی میر

معنی

میں نے زخمِ سینہ پر نمک چھڑکا تھا، ناصور تو کہاں تھا، ظالم بڑا مزہ تھا۔

تشریح

یہ شعر درد کی ایک تلخ حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ زخم پر نمک چھڑکنا، درد کو مزید بڑھانا ہے۔ اور یہ سوال کرنا کہ 'ناسور تو کہاں تھا'، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اصل اذیت दर्द की गहराई में थी، न कि केवल घाव में।

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.