غزل
कल शब-ए-हिज्राँ थी लब पर नाला बीमाराना था
कल शब-ए-हिज्राँ थी लब पर नाला बीमाराना था
یہ غزل جدائی کے گہرے درد اور عشق کے شدید جذبات کو بیان کرتی ہے۔ اشعار میں بتایا گیا ہے کہ ہجر کی رات میں ہونٹوں پر ایک غمگین نالہ تھا، اور محبت نے انہیں ایک ایسی حالت میں ڈال دیا ہے جہاں ہر چیز ویران اور مایوس لگتی ہے۔ یہ نظم عشق کی بے ثباتی اور یادوں کے درد کو ظاہر کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
कल शब-ए-हिज्राँ थी लब पर नाला बीमाराना था
शाम से ता सुब्ह दम बालीं पे सर यकजा न था
کل شب-ए-ہجران تھی لب پر نالہ بیمارانہ تھا; شام سے تا صبح دم بانیوں پہ سر یکجا نہ تھا۔
2
शोहरा-ए-आलम उसे युम्न-ए-मोहब्बत ने किया
वर्ना मजनूँ एक ख़ाक उफ़्तादा-ए-वीराना था
شہرأے عالم اسے یونے محبت نے کیا، ورنہ مجنّع ایک خاک اُفتادۂ ویرانہ تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ دنیا کی شان اسے محبت کی ندی نے دی؛ ورنہ مجنّع بس ایک خاک سے اٹا ہوا ویران بھٹکنے والا تھا۔
3
मंज़िल उस मह की रहा जो मुद्दतों ऐ हम-नशीं
अब वो दिल गोया कि इक मुद्दत का मातम-ख़ाना था
منزل تو وہ محبوب تھا، اے ہم-نشین، جو مدتوں سے تھا؛ اب دل گویا کہ ایک مدت کا ماتم خانہ ہے۔ اس کا سادہ অর্থ ہے کہ منزل تو وہ محبوب تھا جو بہت عرصے سے ساتھ تھا، اور اب دل ایسا ہے جیسے کسی طویل غم کا غم کا گھر ہو۔
4
इक निगाह-ए-आश्ना को भी वफ़ा करता नहीं
वा हुईं मिज़्गाँ कि सब्ज़ा सब्ज़ा-ए-बेगाना था
کسی اپنے کی ایک نظر بھی وفا نہیں کرتی؛ تو یہ مِزگاں کیسے پرایا سبز ہو سکتا ہے۔
5
रोज़ ओ शब गुज़रे है पेच-ओ-ताब में रहते तुझे
ऐ दिल-ए-सद-चाक किस की ज़ुल्फ़ का तू शाना था
روز و شب गुज़रे ہے پیچ و تاب میں رہتے تجھے۔ اے دلِ صد چاک، کس کی زلف کا تو شانا تھا।
6
याद अय्यामे कि अपने रोज़ ओ शब की जा-ए-बाश
या दर-ए-बाज़-ए-बयाबाँ या दर-ए-मय-ख़ाना था
یاد ہے کہ اپنے روز و شب کی جا-ئے-باش، یا درے بازے بیہبان یا درے مے خانہ تھا (یعنی، مجھے یاد ہے کہ میرے ہر روز اور ہر شب کا راستہ، چاہے وہ صحرا کا دروازہ ہو یا مے خانے کا دروازہ، صرف تم کی طرف تھا۔)
7
जिस को देखा हम ने इस वहशत-कदे में दहर के
या सिड़ी या ख़ब्ती या मजनून या दीवाना था
جس کو ہم نے اس وحشت گَدے میں دہر کے، یا سِری یا خَبتِی یا مَجنون یا دیوانہ تھا۔
8
बा'द ख़ूँ-रेज़ी के मुद्दत बे-हिना रंगीं रहा
हाथ उस का जो मिरे लोहू में गुस्ताख़ाना था
خون بہیے کے بعد مدت تک، اس ہاتھ کا رنگ بغیر کسی نشان کے رہا، جو میرے خون میں گستاخی کرتا تھا۔
9
ग़ैर के कहने से मारा उन ने हम को बे-गुनाह
ये न समझा वो कि वाक़े' में भी कुछ था या न था
غیری کے کہنے سے انہوں نے ہمیں بے گناہ مار دیا، مگر یہ نہ سمجھا کہ حقیقت میں کچھ تھا یا نہیں۔
10
सुब्ह होते वो बिना-गोश आज याद आया मुझे
जो गिरा दामन पे आँसू गौहर-ए-यक-दाना था
شام ہوتے ہی وہ بنا-گوش آج یاد آیا مجھے، جو گرا دامن پہ آنسو گوہر-اے-یک-दाना تھا۔ اس کا لغوی مطلب ہے کہ شام ہوتے ہی مجھے وہ بنا-گوش یاد آیا، جس کے دامن پر گرا آنسو ایک موتی کے برابر تھا۔
11
शब फ़रोग़-ए-बज़्म का बा'इस हुआ था हुस्न-ए-दोस्त
शम' का जल्वा ग़ुबार-ए-दीदा-ए-परवाना था
کیا محفل کا نور دوست کے حسن کی وجہ سے ہوا، یا پرندے کی آنکھوں کی دھول سے دیے کی چمک ہوئی؟
12
रात उस की चश्म-ए-मयगूँ ख़्वाब में देखी थी मैं
सुब्ह सोते से उठा तो सामने पैमाना था
میں نے رات اس کی چشمِ مےگون خواب میں دیکھی تھی، مگر صبح جاگ کر دیکھا تو سامنے صرف ایک آئینہ تھا۔
13
रहम कुछ पैदा किया शायद कि उस बे-रहम ने
गोश उस का शब इधर ता आख़िर-ए-अफ़्साना था
شاید کچھ رحم پیدا ہوا کہ اس بے رحم نے / گوش اس کا شب ادھر تا آخرِ افسانہ تھا۔
14
'मीर' भी क्या मस्त ताफ़ेह था शराब-ए-'इश्क़ का
लब पे 'आशिक़ के हमेशा ना'रा-ए-मस्ताना था
मीर بھی کیا مست طعبہ تھا شرابِ عشق کا۔ لب پہ عاشق کے ہمیشہ نارا-ए-مستانہ تھا۔ (مطلب: عشق کی شراب کا میئر بھی کیا نغمہ آور/مستقل طعبہ تھا، اور عاشق کے ہونٹوں پر ہمیشہ مستانہ نغمہ رہتا تھا۔)
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
