غزل
نمود و بود کو عاقل حباب سمجھے ہیں
نمود و بود کو عاقل حباب سمجھے ہیں
یہ غزل دنیا کی بے ثباتی اور زندگی کے فانی ہونے کے فلسفے کو بیان کرتی ہے، جہاں دانشمند لوگ مادی وجود کو ایک خواب یا پانی کے بلبلے کی مانند مانتے ہیں۔ اس میں صوفیانہ انکساری اور خود احتسابی کا گہرا رنگ نمایاں ہے، جو دوسروں کو پرکھنے کے بجائے اپنی اصلاح کرنے اور کائنات کے ہر ادنیٰ ذرے میں نور و عظمت دیکھنے کا درس دیتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
नुमूद ओ बूद को आक़िल हबाब समझे हैं
वो जागते हैं जो दुनिया को ख़्वाब समझे हैं
نمود و بود کو عاقل حباب سمجھے ہیں
وہ جاگتے ہیں جو دنیا کو خواب سمجھے ہیں
عقل مند لوگ ہستی اور وجود کو پانی کے بلبلے کی طرح ناپائیدار سمجھتے ہیں، اور درحقیقت بیدار وہی ہیں جو اس دنیا کو محض ایک خواب سمجھتے ہیں۔
2
कभी बुरा नहीं जाना किसी को अपने सिवा
हर एक ज़र्रे को हम आफ़्ताब समझे हैं
کبھی برا نہیں جانا کسی کو اپنے سوا
ہر ایک ذرے کو ہم آفتاب سمجھے ہیں
ہم نے اپنے سوا کبھی کسی کو برا نہیں سمجھا اور ہر ادنیٰ ذرے کو بھی آفتاب کی طرح روشن مانا ہے۔
3
अजब नहीं है जो शीशों में भर के ले जाएँ
इन आँसुओं को फ़रिश्ते गुलाब समझे हैं
عجب نہیں ہے جو شیشوں میں بھر کے لے جائیں
ان آنسوؤں کو فرشتے گلاب سمجھے ہیں
اگر فرشتے ان آنسوؤں کو شیشیوں میں بھر کر لے جائیں تو کوئی حیرت کی بات نہیں، کیونکہ انہوں نے ان آنسوؤں کو عرقِ گلاب سمجھ لیا ہے۔
4
ज़माना एक तरह पर कभी नहीं रहता
इसी को अहल-ए-जहाँ इंक़िलाब समझे हैं
زمانہ ایک طرح پر کبھی نہیں رہتا
اسی کو اہل جہاں انقلاب سمجھے ہیں
زمانہ کبھی ایک ہی حالت پر قائم نہیں رہتا، اور دنیا والے اسی قدرتی تغیر کو انقلاب سمجھ بیٹھے ہیں۔
5
उन्हीं को दार-ए-बक़ा की है पुख़्तगी का ख़याल
जो बे-सबाती-ए-दहर-ए-ख़राब समझे हैं
انہیں کو دار بقا کی ہے پختگی کا خیال
جو بے ثباتی دہر خراب سمجھے ہیں
ہمیشہ رہنے والی دنیا کی پختگی اور دوام کا خیال صرف انہی لوگوں کو ہوتا ہے، جو اس فانی اور ناپائیدار دنیا کی حقیقت کو سمجھ چکے ہیں۔
6
शबाब खो के भी ग़फ़लत वही है पीरों को
सहर की नींद को भी शब का ख़्वाब समझे हैं
شباب کھو کے بھی غفلت وہی ہے پیروں کو
سحر کی نیند کو بھی شب کا خواب سمجھے ہیں
جوانی کھو دینے کے بعد بھی بوڑھوں کی وہی غفلت اور لاپروائی قائم ہے؛ وہ صبح کے وقت کی نیند کو بھی رات کا خواب ہی سمجھ رہے ہیں۔
7
लहद में आएँ नकीरैन आएँ बिस्मिल्लाह
हर इक सवाल का हम भी जवाब समझे हैं
لحد میں آئیں نکیرین آئیں بسم اللہ
ہر اک سوال کا ہم بھی جواب سمجھے ہیں
قبر میں نکیرین بے شک آئیں، ان کا خیر مقدم ہے؛ ہم بھی ان کے ہر ایک سوال کا جواب جانتے اور سمجھتے ہیں۔
8
अगर ग़ुरूर है आदा को अपनी कसरत पर
तो इस हयात को हम भी हबाब समझे हैं
اگر غرور ہے اعدا کو اپنی کثرت پر
تو اس حیات کو ہم بھی حباب سمجھے ہیں
اگر دشمنوں کو اپنی کثرتِ تعداد پر غرور ہے، تو ہم بھی اس زندگی کو پانی کے بلبلے کی طرح ناپائیدار سمجھتے ہیں۔
9
न कुछ ख़बर है हदीसों की इन सफ़ीहों को
न ये मआनी-ए-उम्मुल-किताब समझे हैं
نہ کچھ خبر ہے حدیثوں کی ان سفیہوں کو
نہ یہ معانی ام الکتاب سمجھے ہیں
ان بے وقوفوں کو نہ تو حدیثوں کی کوئی خبر ہے اور نہ ہی یہ قرآن (ام الکتاب) کے معنی سمجھے ہیں۔
10
कभी शक़ी मुतमत्ता न होंगे दुनिया से
जिसे ये आब उसे हम सराब समझे हैं
کبھی شقی متمتع نہ ہوں گے دنیا سے
جسے یہ آب اسے ہم سراب سمجھے ہیں
بدقسمت لوگ اس دنیا سے کبھی فائدہ یا لطف نہیں اٹھا سکتے، کیونکہ جسے لوگ پانی سمجھتے ہیں ہم نے اسے ہمیشہ محض ایک سراب جانا ہے۔
11
मज़ील-ए-अक़्ल है दुनिया की दौलत ऐ मुनइ'म
उसी के नश्शे को सूफ़ी शराब समझे हैं
مزیل عقل ہے دنیا کی دولت اے منعم
اسی کے نشے کو صوفی شراب سمجھے ہیں
اے دولت مند! دنیا کی دولت عقل کو زائل کرنے والی ہے، اور صوفی لوگ اسی کے نشے کو شراب کا نشہ سمجھ بیٹھے ہیں۔
12
हरारतें हैं मआल-ए-हलावत-ए-दुनिया
वो ज़हर है जिसे हम शहद-ए-नाब समझे हैं
حرارتیں ہیں مآل حلاوت دنیا
وہ زہر ہے جسے ہم شہد ناب سمجھے ہیں
دنیاوی لذتوں کا آخری انجام صرف تپش اور جلن ہے۔ جسے ہم خالص شہد سمجھتے رہے، وہ حقیقت میں ایک زہر ہے۔
13
'अनीस' मख़मल ओ दीबा से क्या फ़क़ीरों को
इसी ज़मीन को हम फ़र्श-ए-ख़्वाब समझे हैं
انیسؔ مخمل و دیبا سے کیا فقیروں کو
اسی زمین کو ہم فرش خواب سمجھے ہیں
اے انیس! فقیروں کا مخمل اور ریشمی لباس سے کیا تعلق، ہم نے تو اسی زمین کو اپنے خوابوں کا بستر سمجھ رکھا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
