“Though youth is lost, the elders linger in that same heedless trance; the slumber of the breaking dawn they take for the dream of night.”
جوانی کھو دینے کے بعد بھی بوڑھوں کی وہی غفلت اور لاپروائی قائم ہے؛ وہ صبح کے وقت کی نیند کو بھی رات کا خواب ہی سمجھ رہے ہیں۔
شاعر انسانی غفلت اور خود فریبی کے المیے کو نہایت دل نشیں انداز میں بیان کر رہا ہے۔ جوانی رخصت ہو چکی اور بڑھاپے کی سحر آن پہنچی ہے، مگر دل کی بے خبری اب بھی جوں کی توں ہے۔ یہاں رات کی مدہوشی نوجوانی کی علامت ہے اور صبح زندگی کے آخری پہر اور تلخ حقیقت کی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جب خواب سے جاگنے اور حقائق کا سامنا کرنے کی گھڑی سر پر آ گئی ہے، تب بھی انسان اس آخری وقت کو محض ایک رات کا خواب سمجھ کر غفلت میں پڑا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
