“What care have mendicants for velvet and silk brocade, O Anis? We have deemed this bare earth to be our carpet of dreams.”
اے انیس! فقیروں کا مخمل اور ریشمی لباس سے کیا تعلق، ہم نے تو اسی زمین کو اپنے خوابوں کا بستر سمجھ رکھا ہے۔
اس خوبصورت شعر میں میر انیس فقر اور قناعت کی دولت کو بڑی سادگی سے بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ریشم اور مخمل کی دنیاوی آسائشیں اہل دنیا کو مبارک ہوں، درویشوں کو ان کی پروا نہیں۔ جب انسان کے دل میں تسلیم و رضا اور سچی خاکساری ہو، تو یہ ننگی زمین بھی خوابوں کا دلکش بچھونا بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
