“It would be no wonder if they fill their phials and carry them away; the angels have mistaken these tears for rosewater.”
اگر فرشتے ان آنسوؤں کو شیشیوں میں بھر کر لے جائیں تو کوئی حیرت کی بات نہیں، کیونکہ انہوں نے ان آنسوؤں کو عرقِ گلاب سمجھ لیا ہے۔
شاعر نے سچے عشق اور درد میں بہنے والے آنسوؤں کو اس قدر تقدس بخشا ہے کہ وہ عام غم کا حصہ نہیں لگتے۔ یہاں ’گلاب‘ سے مراد عرقِ گلاب ہے، جو اپنی پاکیزہ خوشبو اور نفاست کے لیے جانا جاتا ہے۔ کتنا پیارا خیال ہے کہ فرشتے بھی ان آنسوؤں کو خوشبودار عطر سمجھ کر اپنی شیشیوں میں سمیٹنے پر مجبور ہو جائیں، کیونکہ خلوصِ دل سے نکلا ہوا درد آسمان پر بھی بے حد قیمتی مانا جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
