انہیں کو دار بقا کی ہے پختگی کا خیال جو بے ثباتی دہر خراب سمجھے ہیں

“Only they conceive the permanence of the eternal abode, who have understood the transience of this ruined world.”

— میر انیس
معنی

ہمیشہ رہنے والی دنیا کی پختگی اور دوام کا خیال صرف انہی لوگوں کو ہوتا ہے، جو اس فانی اور ناپائیدار دنیا کی حقیقت کو سمجھ چکے ہیں۔

تشریح

شاعر اس شعر میں حیات اور کائنات کی ایک گہری حقیقت کھولتے ہوئے کہتے ہیں کہ ابدی زندگی اور لازوال ٹھکانے کی قدر صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو اس دنیا کی فانی نوعیت کو جان لیں۔ جب انسان کو یہ احساس ہو جائے کہ یہ مادی دنیا ایک خستہ حال سرائے کی طرح ہے جہاں کچھ بھی قائم رہنے والا نہیں، تو اس کا دل خود بخود کسی دائمی سچائی کی طرف مائل ہوتا ہے۔ یہ شعر ہمیں بتاتا ہے کہ حقیقی پختگی دراصل اس فانی دنیا کی بے ثباتی کو قبول کرنے میں ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.