“These fools possess no knowledge of tradition's lore, / Nor have they grasped the sacred Book's essential core.”
ان بے وقوفوں کو نہ تو حدیثوں کی کوئی خبر ہے اور نہ ہی یہ قرآن (ام الکتاب) کے معنی سمجھے ہیں۔
اس شعر میں شاعر ان سطحی اور ظاہر پرست لوگوں پر گہرا طنز کر رہے ہیں جو علم و حکمت کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر حقیقت سے بالکل بے بہرہ ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ان بے عقلوں کو نہ تو احادیث کی گہری حکمت کا ادراک ہے اور نہ ہی یہ ام الکتاب یعنی اصل کلام کے باطنی مفہوم اور روح کو سمجھ سکے ہیں۔ یہ ایک پردرد اشارہ ہے کہ علم محض الفاظ رٹنے کا نام نہیں، بلکہ دل کی بصیرت کا نام ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
