“The world never abides in one unchanging state; this alone the people of the world mistake for revolution.”
زمانہ کبھی ایک ہی حالت پر قائم نہیں رہتا، اور دنیا والے اسی قدرتی تغیر کو انقلاب سمجھ بیٹھے ہیں۔
شاعر یہاں انسان کے بھولے پن پر مسکراتے ہوئے ایک گہری سچائی بیان کر رہے ہیں۔ زمانہ تو اپنی فطرت ہی میں بے قرار ہے اور کبھی ایک حال پر نہیں ٹھہرتا، مگر دنیا والے وقت کی اس قدرتی گردش کو بھی کوئی عظیم 'انقلاب' سمجھ بیٹھتے ہیں۔ یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ حالات کے معمولی الٹ پھیر کو اصل تبدیلی نہیں کہا جا سکتا، یہ تو بس زندگی کا پرانا دستور ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
