اگر غرور ہے اعدا کو اپنی کثرت پر تو اس حیات کو ہم بھی حباب سمجھے ہیں

“If foes take pride in their vast number's might, we too hold this life as a bubble, frail and light.”

— میر انیس
معنی

اگر دشمنوں کو اپنی کثرتِ تعداد پر غرور ہے، تو ہم بھی اس زندگی کو پانی کے بلبلے کی طرح ناپائیدار سمجھتے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر بڑی بے باکی اور غیرت مندی کے ساتھ اپنے دشمنوں کو للکار رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر مخالفین کو اپنے لشکر کی کثرت اور طاقت پر ناز ہے، تو ہمیں بھی اپنی جان کا کوئی خوف نہیں۔ ہم نے تو اس زندگی کو پانی کے بلبلے کی طرح فانی سمجھ رکھا ہے، اور جب دل سے موت کا ڈر ہی نکل جائے تو دشمن کی کوئی بھی کثرت انسان کو جھکا نہیں سکتی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.