“The wretched shall never draw delight from this worldly stage; what others take for water, we have known to be a mirage.”
بدقسمت لوگ اس دنیا سے کبھی فائدہ یا لطف نہیں اٹھا سکتے، کیونکہ جسے لوگ پانی سمجھتے ہیں ہم نے اسے ہمیشہ محض ایک سراب جانا ہے۔
اس شعر میں شاعر دنیا کی ناپائیداری اور فریب کو بڑی خوبصورتی سے بیان کر رہے ہیں۔ عام لوگ دنیا کی جن رونقوں اور آسائشوں کو حیات بخش پانی سمجھ کر ان کے پیچھے دوڑتے ہیں، اہلِ نظر اور دردمند دل والے خوب جانتے ہیں کہ وہ محض ایک سراب اور دھوکا ہے۔ جب انسان پر زندگی کی اس بے ثباتی کا راز کھل جائے، تو وہ دوسروں کی طرح اس کی کھوکھلی خوشیوں سے کبھی لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
