“Save for myself, I never thought ill of anyone; in every single speck of dust, I saw a radiant sun.”
ہم نے اپنے سوا کبھی کسی کو برا نہیں سمجھا اور ہر ادنیٰ ذرے کو بھی آفتاب کی طرح روشن مانا ہے۔
یہ شعر کمال درجے کی عاجزی، انکساری اور پاکیزہ سوچ کا دلکش نمونہ ہے۔ عام طور پر انسان دوسروں میں عیب تلاش کرتا ہے، مگر شاعر نے اپنی 'انا' مٹا کر صرف اپنے نفس پر نگاہ رکھی اور خاک کے معمولی ذرے کو بھی آفتاب کی طرح روشن مانا۔ دراصل جب دل تعصب اور تکبر سے خالی ہو جائے، تو دنیا کے ہر انسان میں ایک خاص عظمت اور حسن دکھائی دینے لگتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
