“Let the questioning angels enter the grave—welcome, in God's name! To every question they bring, we too have an answer prepared.”
قبر میں نکیرین بے شک آئیں، ان کا خیر مقدم ہے؛ ہم بھی ان کے ہر ایک سوال کا جواب جانتے اور سمجھتے ہیں۔
اس شعر میں موت اور برزخ کی آزمائش کا کوئی خوف نہیں، بلکہ ایک دلنشین اور بے باک اعتماد جھلکتا ہے۔ قبر میں حساب لینے والے فرشتوں کی آمد پر شاعر گھبرانے کے بجائے کھلے دل سے ”بسم اللہ“ کہہ کر ان کا خیرمقدم کرتا ہے۔ روایتِ تصوف و عشق میں عاشق کا یہ تیقن اس لیے ہے کہ زندگی اور بندگی کے ہر سوال کے جواب میں اس کے پاس صرف اپنے محبوب کا نام اور اس کی سچی لگن ہی کافی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
