“Fevered torments are the final fate of worldly sweet delight; it is a deadly poison that we mistook for honey pure and bright.”
دنیاوی لذتوں کا آخری انجام صرف تپش اور جلن ہے۔ جسے ہم خالص شہد سمجھتے رہے، وہ حقیقت میں ایک زہر ہے۔
اس شعر میں شاعر دنیا کی ظاہری لذتوں اور ان کے فریب کو نہایت خوبصورتی سے بے نقاب کرتے ہیں۔ ہم جسے خالص اور میٹھا شہد سمجھ کر اپناتے رہے، وہ دراصل ایک ایسا زہر تھا جس نے انسان کو اضطراب اور پچھتاوے کی تپش کے سوا کچھ نہ دیا۔ یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مادی دنیا کی عارضی چمک دمک روح کو سکون دینے کے بجائے تڑپا کر رکھ دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
