مزیل عقل ہے دنیا کی دولت اے منعم اسی کے نشے کو صوفی شراب سمجھے ہیں

“Worldly wealth destroys the intellect, O rich man! It is that very intoxication which the Sufis have mistaken for wine.”

— میر انیس
معنی

اے دولت مند! دنیا کی دولت عقل کو زائل کرنے والی ہے، اور صوفی لوگ اسی کے نشے کو شراب کا نشہ سمجھ بیٹھے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر دولت مند شخص کو ایک گہری اور چبھتی ہوئی حقیقت یاد دلاتا ہے کہ مال و زر انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ دولت کا غرور کسی تیز شراب سے کم نہیں ہوتا جو انسان کو حقیقت اور ہوش سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ صوفی کا ذکر کر کے شاعر نے ایک لطیف طنز کیا ہے کہ دنیاوی آسائشوں کی مدہوشی اتنی شدید ہے کہ وہ انسان کو پوری طرح مدہوش کر ڈالتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.