غزل
نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیا
نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیا
یہ غزل محبوب کی سحر انگیز اداؤں، ناز و انداز اور شوخیوں کا خوبصورت احاطہ کرتی ہے، جس کی نگاہوں اور تبسم نے عاشق کا دل موہ لیا ہے۔ اس میں حسن کے جادو اور عشق میں سرور بخش خودسپردگی کی کیفیت کو عمدگی سے بیان کیا گیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
नज़र मिला के मिरे पास आ के लूट लिया
नज़र हटी थी कि फिर मुस्कुरा के लूट लिया
نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیا
نظر ہٹی تھی کہ پھر مسکرا کے لوٹ لیا
پہلے انہوں نے مجھ سے نظریں ملائیں، میرے پاس آ کر مجھے لوٹ لیا، اور جیسے ہی نظر ہٹی تو مسکرا کر مجھے دوبارہ لوٹ لیا۔
2
शिकस्त-ए-हुस्न का जल्वा दिखा के लूट लिया
निगाह नीची किए सर झुका के लूट लिया
شکست حسن کا جلوہ دکھا کے لوٹ لیا
نگاہ نیچی کئے سر جھکا کے لوٹ لیا
محبوب نے اپنی نگاہیں نیچی کر کے اور سر جھکا کر حسن کی شکست کا جلوہ دکھایا اور مجھے لوٹ لیا۔
3
दुहाई है मिरे अल्लाह की दुहाई है
किसी ने मुझ से भी मुझ को छुपा के लूट लिया
دہائی ہے مرے اللہ کی دہائی ہے
کسی نے مجھ سے بھی مجھ کو چھپا کے لوٹ لیا
میرے اللہ سے دہائی اور فریاد ہے کہ کسی نے مجھے مجھ ہی سے چھپا کر لوٹ لیا ہے۔
4
सलाम उस पे कि जिस ने उठा के पर्दा-ए-दिल
मुझी में रह के मुझी में समा के लूट लिया
سلام اس پہ کہ جس نے اٹھا کے پردۂ دل
مجھی میں رہ کے مجھی میں سما کے لوٹ لیا
اس پر سلام جس نے دل کا پردہ اٹھا کر، میرے ہی اندر رہ کر اور مجھ ہی میں سما کر مجھے لوٹ لیا۔
5
उन्हीं के दिल से कोई उस की अज़्मतें पूछे
वो एक दिल जिसे सब कुछ लुटा के लूट लिया
انہیں کے دل سے کوئی اس کی عظمتیں پوچھے
وہ ایک دل جسے سب کچھ لٹا کے لوٹ لیا
اس دل کی عظمت کوئی انہی کے دل سے پوچھے، جس ایک دل کو اپنا سب کچھ لٹا کر حاصل کیا گیا ہو۔
6
यहाँ तो ख़ुद तिरी हस्ती है इश्क़ को दरकार
वो और होंगे जिन्हें मुस्कुरा के लूट लिया
یہاں تو خود تری ہستی ہے عشق کو درکار
وہ اور ہوں گے جنہیں مسکرا کے لوٹ لیا
یہاں تو عشق کو خود تمھارا پورا وجود درکار ہے؛ وہ کوئی اور لوگ ہوں گے جنہیں تم نے محض مسکرا کر لوٹ لیا۔
7
ख़ुशा वो जान जिसे दी गई अमानत-ए-इश्क़
रहे वो दिल जिसे अपना बना के लूट लिया
خوشا وہ جان جسے دی گئی امانت عشق
رہے وہ دل جسے اپنا بنا کے لوٹ لیا
مبارک ہے وہ جان جسے عشق کی امانت سونپی گئی، اور سلامت رہے وہ دل جسے پہلے اپنا بنایا گیا اور پھر لوٹ لیا گیا۔
8
निगाह डाल दी जिस पर हसीन आँखों ने
उसे भी हुस्न-ए-मुजस्सम बना के लूट लिया
نگاہ ڈال دی جس پر حسین آنکھوں نے
اسے بھی حسن مجسم بنا کے لوٹ لیا
ان خوبصورت آنکھوں نے جس کسی پر بھی نظر ڈالی، اسے حسن کا مجسمہ بنا دیا اور پھر اسے لوٹ لیا۔
9
बड़े वो आए दिल ओ जाँ के लूटने वाले
नज़र से छेड़ दिया गुदगुदा के लूट लिया
بڑے وہ آئے دل و جاں کے لوٹنے والے
نظر سے چھیڑ دیا گدگدا کے لوٹ لیا
دل اور جان کو لوٹنے والے بڑی شان سے آئے؛ انہوں نے نظروں سے چھیڑا، گدگدایا اور سب کچھ لوٹ کر لے گئے۔
10
रहा ख़राब-ए-मोहब्बत ही वो जिसे तू ने
ख़ुद अपना दर्द-ए-मोहब्बत दिखा के लूट लिया
رہا خراب محبت ہی وہ جسے تو نے
خود اپنا درد محبت دکھا کے لوٹ لیا
وہ شخص محبت میں ہمیشہ برباد ہی رہا جسے تم نے خود اپنا دردِ محبت دکھا کر لوٹ لیا۔
11
कोई ये लूट तो देखे कि उस ने जब चाहा
तमाम हस्ती-ए-दिल को जगा के लूट लिया
کوئی یہ لوٹ تو دیکھے کہ اس نے جب چاہا
تمام ہستئ دل کو جگا کے لوٹ لیا
کوئی اس لوٹ کو دیکھے کہ جب بھی اس نے چاہا، دل کے پورے وجود کو پہلے جگایا اور پھر اسے لوٹ لیا۔
12
करिश्मा-साज़ी-ए-हुस्न-ए-अज़ल अरे तौबा
मिरा ही आईना मुझ को दिखा के लूट लिया
کرشما سازی حسن ازل ارے توبہ
مرا ہی آئینہ مجھ کو دکھا کے لوٹ لیا
حسنِ ازل کا کرشمہ اور کمال حیرت انگیز ہے کہ اس نے میرا ہی آئینہ مجھے دکھا کر مجھے لوٹ لیا۔
13
न लुटते हम मगर उन मस्त अँखड़ियों ने 'जिगर'
नज़र बचाते हुए डबडबा के लूट लिया
نہ لٹتے ہم مگر ان مست انکھڑیوں نے جگرؔ
نظر بچاتے ہوئے ڈبڈبا کے لوٹ لیا
اے جگر، ہم کبھی نہ لٹتے لیکن ان مست آنکھوں نے نظریں چراتے ہوئے اور آنسوؤں سے بھر کر ہمیں لوٹ لیا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
