“They arrived in grand style, the thieves of heart and soul; with a teasing glance they charmed me, and softly stole it whole.”
دل اور جان کو لوٹنے والے بڑی شان سے آئے؛ انہوں نے نظروں سے چھیڑا، گدگدایا اور سب کچھ لوٹ کر لے گئے۔
اس شعر میں محبوب کی دلکش شوخی اور محبت میں دل ہار جانے کی پیاری سی بے بسی کو کمال نزاکت سے باندھا گیا ہے۔ شاعر مسکرا کر کہتا ہے کہ محبوب نے دل و جان پر قبضہ جمانے کے لیے کوئی زبردستی نہیں کی، بس ایک شوخ نظر سے چھیڑا، احساسات کو گدگدایا اور ہنستے کھیلتے سب کچھ چرا کر لے گیا۔ یہ لٹ جانا دراصل کوئی صدمہ نہیں، بلکہ عشق کا وہ حسین لمحہ ہے جس میں اپنا سب کچھ ہار کر بھی دل مسکرا اٹھتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
