نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیا نظر ہٹی تھی کہ پھر مسکرا کے لوٹ لیا

“Locking their gaze and drawing near, they stole my heart away; and no sooner had their eyes turned, they smiled and robbed me once more.”

— جگر مرادآبادی
معنی

پہلے انہوں نے مجھ سے نظریں ملائیں، میرے پاس آ کر مجھے لوٹ لیا، اور جیسے ہی نظر ہٹی تو مسکرا کر مجھے دوبارہ لوٹ لیا۔

تشریح

یہ شعر محبوب کی قاتلانہ شوخیوں اور محبت میں دل کے لٹنے کے پُرلُطف احساس کی دلکش عکاسی کرتا ہے۔ پہلے تو وہ قریب آ کر اور نظریں ملا کر دل کا چین چرا لیتے ہیں، اور جوں ہی نظر ہٹنے پر دل سنبھلنے لگتا ہے، وہ ایک دلکش مسکراہٹ سے رہی سہی کسر بھی پوری کر دیتے ہیں۔ یہاں لٹ جانا دراصل اس میٹھی اور پرکیف شکست کا نام ہے جس پر عاشق خود خوشی خوشی نثار ہو جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 13Next →