“Upon whomever those enchanting eyes cast their gaze, they turned him into beauty incarnate, then plundered him in a daze.”
ان خوبصورت آنکھوں نے جس کسی پر بھی نظر ڈالی، اسے حسن کا مجسمہ بنا دیا اور پھر اسے لوٹ لیا۔
یہ شعر محبوب کی پُراثر نگاہوں کے سحر انگیز تضاد کو بڑی خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ ان دلکش آنکھوں کی ایک نظر نے جس پر بھی التفات کیا، اسے پہلے اپنی توجہ سے نواز کر سراپا حسن بنا دیا اور پھر پلک جھپکتے ہی اس کا دل اور چین لوٹ لیا۔ محبت کا یہ وہ سحر ہے جس میں لٹ جانا ہی عاشق کے لیے سب سے بڑا اعزاز بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
