“Here, love demands nothing less than your very being; those must be others whom you plundered with a mere smile.”
یہاں تو عشق کو خود تمھارا پورا وجود درکار ہے؛ وہ کوئی اور لوگ ہوں گے جنہیں تم نے محض مسکرا کر لوٹ لیا۔
اس شعر میں شاعر عشق کے غیر معمولی تقاضے اور اس کی گہرائی کو بے باک انداز میں بیان کر رہا ہے۔ وہ محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ محض ایک مسکراہٹ پر لٹ جانے والے لوگ کوئی اور ہوں گے، لیکن یہاں سچی محبت تو آپ کے پورے وجود اور ہستی کا نذرانہ مانگتی ہے۔ یہ کوئی سرسری دل لگی نہیں بلکہ مکمل فنا اور سپردگی کی ایک بے پایاں داستان ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
