“I would never have been undone, O Jigar, yet those intoxicating eyes, / Averting their glance while brimming with tears, plundered my soul entirely.”
اے جگر، ہم کبھی نہ لٹتے لیکن ان مست آنکھوں نے نظریں چراتے ہوئے اور آنسوؤں سے بھر کر ہمیں لوٹ لیا۔
جگر مراد آبادی اس شعر میں دل ہارنے کی ایک نہایت نازک اور دلکش ادا بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے دل کا سودا اتنی آسانی سے کرنے والے نہ تھے، مگر محبوب کی خمار آلود آنکھوں نے غضب ڈھا دیا۔ انہوں نے کوئی سیدھا وار نہیں کیا، بلکہ شرم و حیا سے نظریں چراتے ہوئے اور آنکھوں میں آنسو بھر کر ہی ہمارے دل کا سارا چین اور قرار لوٹ لیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
