“Salutations to the one who, lifting the veil of the heart, dwelt within me, dissolved into me, and plundered my very soul.”
اس پر سلام جس نے دل کا پردہ اٹھا کر، میرے ہی اندر رہ کر اور مجھ ہی میں سما کر مجھے لوٹ لیا۔
یہاں شاعر اپنے محبوب کو بڑی نیازمندی سے سلام پیش کرتا ہے جس نے دل کے تمام پردے گرا کر باطن میں گھر کیا اور پھر رُوح میں سما کر دل کی ساری کائنات لوٹ لی۔ اس لٹنے میں کوئی شکوہ یا دکھ نہیں، بلکہ خود کو محبوب کے حوالے کر دینے کی ایک پُرکیف تسلیم ہے۔ یہ اس گہرے عشق کا بیان ہے جہاں انسان اپنے ہی وجود میں بسی اس دلکش موجودگی کے سامنے اپنی ہستی فنا کر بیٹھتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
