غزل

پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب

پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب
مرزا غالب· Ghazal· 12 shers· radif: मौज-ए-शराब

مرزا غالب کی یہ غزل موسمِ بہار کی آمد، شراب کی سرمستی اور وجدانی سرور کا پرشکوہ بیان ہے۔ اس میں موجِ شراب کی تمثیلوں کے ذریعے فطرت کی شادابی اور رندی و سرمستی کے والہانہ جذبے کو خوبصورتی سے سراہا گیا ہے۔

Source: rekhta · HI

ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →
نغمہ سنیں
رسم الخط
1
फिर हुआ वक़्त कि हो बाल-कुशा मौज-ए-शराब दे बत-ए-मय को दिल-ओ-दस्त-ए-शना मौज-ए-शराब
پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب دے بط مے کو دل و دست شنا موج شراب
پھر وہ وقت آ گیا ہے کہ شراب کی موج اپنے پر پھیلائے اور شراب کی صراحی کو تیرنے کا حوصلہ اور طاقت عطا کرے۔
2
पूछ मत वज्ह-ए-सियह-मस्ती-ए-अरबाब-ए-चमन साया-ए-ताक में होती है हवा मौज-ए-शराब
پوچھ مت وجہ سیہ مستیٔ ارباب چمن سایۂ تاک میں ہوتی ہے ہوا موج شراب
باغ والوں کی شدید مدہوشی کا سبب نہ پوچھو؛ انگور کی بیل کے سائے میں تو ہوا خود شراب کی لہر بن جاتی ہے۔
3
जो हुआ ग़र्क़ा-ए-मय बख़्त-ए-रसा रखता है सर से गुज़रे पे भी है बाल-ए-हुमा मौज-ए-शराब
جو ہوا غرقۂ مے بخت رسا رکھتا ہے سر سے گزرے پہ بھی ہے بال ہما موج شراب
جو شخص شراب میں مکمل طور پر غرق ہو جاتا ہے وہ بلند قسمت کا مالک ہوتا ہے۔ شراب کی موج اگر اس کے سر سے بھی گزر جائے تب بھی وہ ہما کے مبارک پر کی طرح اس کے لیے خوش بختی بن جاتی ہے۔
4
है ये बरसात वो मौसम कि अजब क्या है अगर मौज-ए-हस्ती को करे फ़ैज़-ए-हवा मौज-ए-शराब
ہے یہ برسات وہ موسم کہ عجب کیا ہے اگر موج ہستی کو کرے فیض ہوا موج شراب
برسات کا یہ موسم ایسا ہے کہ اگر خوشگوار ہوا کا فیض زندگی کی لہر کو شراب کی موج میں بدل دے تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں۔
5
चार मौज उठती है तूफ़ान-ए-तरब से हर सू मौज-ए-गुल मौज-ए-शफ़क़ मौज-ए-सबा मौज-ए-शराब
چار موج اٹھتی ہے طوفان طرب سے ہر سو موج گل موج شفق موج صبا موج شراب
خوشی کے طوفان سے ہر سمت چار لہریں اٹھ رہی ہیں: پھولوں کی لہر، شفق کی لہر، صبح کی ہوا کی لہر اور شراب کی لہر۔
6
जिस क़दर रूह-ए-नबाती है जिगर तिश्ना-ए-नाज़ दे है तस्कीं ब-दम-ए-आब-ए-बक़ा मौज-ए-शराब
جس قدر روح نباتی ہے جگر تشنۂ ناز دے ہے تسکیں بہ دم آب بقا موج شراب
جس حد تک نباتاتی روح دل کو محبوب کے ناز و نخرے کا پیاسا بناتی ہے، شراب کی لہر آبِ حیات کی طرح اسے اسی قدر تسکین دیتی ہے۔
7
बस-कि दौड़े है रग-ए-ताक में ख़ूँ हो हो कर शहपर-ए-रंग से है बाल-कुशा मौज-ए-शराब
بسکہ دوڑے ہے رگ تاک میں خوں ہو ہو کر شہپر رنگ سے ہے بال کشا موج شراب
انگور کی بیل کی رگوں میں شراب خون بن کر اس قدر تیزی سے دوڑ رہی ہے کہ شراب کی لہر رنگ کے پر پھیلا کر اڑنے کو تیار معلوم ہوتی ہے۔
8
मौजा-ए-गुल से चराग़ाँ है गुज़र-गाह-ए-ख़याल है तसव्वुर में ज़ि-बस जल्वा-नुमा मौज-ए-शराब
موجۂ گل سے چراغاں ہے گزر گاہ خیال ہے تصور میں ز بس جلوہ نما موج شراب
خیال کا راستہ پھولوں کی لہر سے جگمگا اٹھا ہے، کیونکہ تصور میں شراب کی لہر شدت سے جلوہ دکھا رہی ہے۔
9
नश्शे के पर्दे में है महव-ए-तमाशा-ए-दिमाग़ बस-कि रखती है सर-ए-नश-ओ-नुमा मौज-ए-शराब
نشہ کے پردے میں ہے محو تماشائے دماغ بسکہ رکھتی ہے سر نشو و نما موج شراب
شراب کی موج نشوونما اور بڑھوتری کا اس قدر شوق رکھتی ہے کہ وہ نشے کے پردے کے پیچھے دماغ کا تماشا دیکھنے میں محو رہتی ہے۔
10
एक आलम पे हैं तूफ़ानी-ए-कैफ़ियत-ए-फ़स्ल मौजा-ए-सब्ज़ा-ए-नौ-ख़ेज़ से ता मौज-ए-शराब
ایک عالم پہ ہیں طوفانی کیفیت فصل موجۂ سبزۂ نو خیز سے تا موج شراب
موسم کی طوفانی مستی پوری دنیا پر چھائی ہوئی ہے، جو نئی اگی ہوئی ہریالی کی لہر سے لے کر شراب کی موج تک پھیلی ہوئی ہے۔
11
शरह-ए-हंगामा-ए-हस्ती है ज़हे मौसम-ए-गुल रह-बर-ए-क़तरा-बा-दरिया है ख़ोशा मौज-ए-शराब
شرح ہنگامۂ ہستی ہے زہے موسم گل رہبر قطرہ بہ دریا ہے خوشا موج شراب
بہار کا موسم کتنا شاندار ہے جو زندگی کی رونق و ہنگامے کی تشریح کرتا ہے، اور شراب کی لہر کتنی مبارک ہے جو قطرے کو سمندر تک پہنچانے کے لیے رہنمائی کرتی ہے۔
12
होश उड़ते हैं मिरे जल्वा-ए-गुल देख 'असद' फिर हुआ वक़्त कि हो बाल-कुशा मौज-ए-शराब
ہوش اڑتے ہیں مرے جلوۂ گل دیکھ اسدؔ پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب
اے اسدؔ، پھول کی رونق دیکھ کر میرے ہوش اڑ جاتے ہیں۔ اب پھر وہ وقت آ گیا ہے کہ شراب کی موج اپنے پر پھیلائے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.