“Veiled in intoxication, lost in the spectacle of the mind / So intent on growth and burgeoning is the surging wave of wine.”
شراب کی موج نشوونما اور بڑھوتری کا اس قدر شوق رکھتی ہے کہ وہ نشے کے پردے کے پیچھے دماغ کا تماشا دیکھنے میں محو رہتی ہے۔
غالب اس شعر میں نشے کو محض بے خودی نہیں، بلکہ فکر اور تخیل کے پھلنے پھولنے کا ایک ذریعہ بتاتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ شراب کی موج کے اندر بھی نمو پانے اور آگے بڑھنے کا ایک خاص جذبہ پوشیدہ ہے۔ نشے کی اس لہر میں انسان کا ذہن گم نہیں ہوتا، بلکہ وہ خود اپنے باطن اور خیالات کے رنگ برنگے تماشے میں محو ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
