“Ask not the reason for the garden dwellers' wild intoxication; beneath the vine's shade, the very breeze becomes a wave of wine.”
باغ والوں کی شدید مدہوشی کا سبب نہ پوچھو؛ انگور کی بیل کے سائے میں تو ہوا خود شراب کی لہر بن جاتی ہے۔
مرزا غالب اس شعر میں چمن کے مسحور کن اور پُرفریب ماحول کا ایک دلکش نقشہ کھینچتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ باغ کے باسیوں کی اس بے خودی اور مستی پر حیران نہ ہو، کیونکہ یہاں تو انگور کی بیل کے سائے تلے چلنے والی ہوا بھی شراب کی موج بن چکی ہے۔ اس کا خوبصورت مفہوم یہ ہے کہ جب ماحول خود حسن اور محبت کے نشے میں ڈوبا ہو، تو وہاں رہنے والے بغیر پیے ہی سرشار ہو جاتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
