“The hour arrives once more for the wave of wine to spread its wings, granting the duck of the flagon the heart and limbs to swim.”
پھر وہ وقت آ گیا ہے کہ شراب کی موج اپنے پر پھیلائے اور شراب کی صراحی کو تیرنے کا حوصلہ اور طاقت عطا کرے۔
غالب نے اس شعر میں جشن اور بہار کی آمد کا سماں بڑے دلکش انداز میں باندھا ہے۔ پرانے وقتوں میں مے کدوں کی صراحی بطخ کی شکل کی ہوا کرتی تھی، جسے وہ 'بطِ مے' کہہ رہے ہیں۔ جب شراب کی لہریں پر تولتی ہیں تو گویا وہ اس صراحی کو تیرنے کا حوصلہ اور قوت بخشتی ہیں—یعنی تمام الجھنوں کو بھلا کر خود کو سرور اور مستی کے حوالے کرنے کا سنہرا وقت آ گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
