“The pathway of my fancy glows bright with blooming waves of rose, / So vividly in thought the radiant wave of wine now glows.”
خیال کا راستہ پھولوں کی لہر سے جگمگا اٹھا ہے، کیونکہ تصور میں شراب کی لہر شدت سے جلوہ دکھا رہی ہے۔
غالب اس شعر میں خیال اور تخیل کی تابناکی کا بڑا دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب ذہن میں سرخ شراب کی موج جھلکتی ہے، تو سوچ کے سارے راستے گویا گلاب کی لہروں سے چراغاں ہو جاتے ہیں۔ شراب کی سرخی اور پھولوں کی چمک مل کر اندر کی دنیا کو ایک پُرنور محفل بنا دیتی ہے، جہاں ایک خوبصورت تصور ہی دل کو جشن کی طرح جگمگا دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
