شرح ہنگامۂ ہستی ہے زہے موسم گل رہبر قطرہ بہ دریا ہے خوشا موج شراب

“Hail the season of roses, unfolding the tumult of existence; blessed be the wave of wine, guiding the droplet into the ocean.”

— مرزا غالب
معنی

بہار کا موسم کتنا شاندار ہے جو زندگی کی رونق و ہنگامے کی تشریح کرتا ہے، اور شراب کی لہر کتنی مبارک ہے جو قطرے کو سمندر تک پہنچانے کے لیے رہنمائی کرتی ہے۔

تشریح

غالب اس شعر میں بہار کا والہانہ خیر مقدم کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ پھولوں کا موسم دراصل زندگی کی تمام رنگا رنگ ہلچل اور خوبصورتی کی کھلی تشریح ہے۔ دوسرے مصرع میں وہ نشۂ عشق یا بے خودی کو ایسا رہنما قرار دیتے ہیں جو قطرے کی مانند انسان کی محدود ہستی کو مٹا کر اسے لامحدود سمندر یعنی ذاتِ حق میں ضم کر دیتا ہے۔ یہ شعر خودی کے فنا ہو جانے اور کائنات کی وسعتوں میں گھل مل جانے کا ایک پُرلطف صوفیانہ اظہار ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.