بسکہ دوڑے ہے رگ تاک میں خوں ہو ہو کر شہپر رنگ سے ہے بال کشا موج شراب

“So fiercely does it surge as blood within the grapevine's vein, that on pinions of vivid hue, the wave of wine unfolds its wings.”

— مرزا غالب
معنی

انگور کی بیل کی رگوں میں شراب خون بن کر اس قدر تیزی سے دوڑ رہی ہے کہ شراب کی لہر رنگ کے پر پھیلا کر اڑنے کو تیار معلوم ہوتی ہے۔

تشریح

غالب نے اس شعر میں انگور کی بیل کے اندر جاری بے چین حیات کو کمال کی تصویر دی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ انگور کی رگوں میں رس خون بن کر اس شدت سے دوڑ رہا ہے کہ جب شراب کی لہر بنتا ہے تو رنگوں کے پر کھول کر اڑنے کو بے تاب دکھائی دیتا ہے۔ دراصل یہ اس اندرونی تڑپ اور جنون کا اظہار ہے جو دل کے خون سے گزر کر ہی فن اور سرور کے پروان چڑھنے کا سبب بنتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.