“Four waves surge on every side from the tempest of delight: a wave of roses, a wave of twilight, a wave of breeze, a wave of wine.”
خوشی کے طوفان سے ہر سمت چار لہریں اٹھ رہی ہیں: پھولوں کی لہر، شفق کی لہر، صبح کی ہوا کی لہر اور شراب کی لہر۔
یہ شعر نشاط اور سرمستی کا ایک بے مثال سماں باندھتا ہے، جہاں مسرت کوئی ہلکی سی لہر نہیں بلکہ حسن و کیف کا ایک پرشور طوفان بن کر امڈ آتی ہے۔ شاعر نے پھولوں کے نکھار، شفق کی دلکش لالی، صبح کی مہکتی ہوا اور شراب کے نشے کو چار موجوں کی صورت میں لا کر خوشی کے رنگوں کو لازوال کر دیا ہے۔ یہ زندگی کے اُس طلسماتی لمحے کی تصویر کشی ہے جب انسان چاروں طرف سے حسن اور سرور کے سحر میں ڈوب جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
