“Such is this rainy season that it would be no wonder, if the grace of the breeze turns the wave of life into a wave of wine.”
برسات کا یہ موسم ایسا ہے کہ اگر خوشگوار ہوا کا فیض زندگی کی لہر کو شراب کی موج میں بدل دے تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں۔
اردو شاعری میں برسات کا موسم رندانہ مستی، سرور اور بے خودی کی علامت ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ اس بھیگے موسم کی بادِ بہار میں ایسی تاثیر ہے کہ اگر زندگی کا سادہ سا بہاؤ بھی مے کی موج بن کر بہنے لگے، تو کچھ حیرت نہیں۔ یہ شعر بارش کے پرکیف اثر اور حیات کی خوش رنگ سرمستی کا نہایت دلکش و شاداب بیان ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
