ایک عالم پہ ہیں طوفانی کیفیت فصل موجۂ سبزۂ نو خیز سے تا موج شراب

“The season's stormy ecstasy inundates the entire world, from the surge of newly sprouted green to the cresting wave of wine.”

— مرزا غالب
معنی

موسم کی طوفانی مستی پوری دنیا پر چھائی ہوئی ہے، جو نئی اگی ہوئی ہریالی کی لہر سے لے کر شراب کی موج تک پھیلی ہوئی ہے۔

تشریح

یہ شعر بہار کے موسم کی اس سرشار کر دینے والی مستی کو بیان کرتا ہے جو پوری کائنات پر طوفان بن کر چھا گئی ہے۔ شاعر نے زمین سے پھوٹنے والے تازہ سبزے کی لہر کو ساغر میں مچلتی شراب کی موج سے ملا کر ایک پُرجوش سماں باندھ دیا ہے۔ درحقیقت یہ حیات اور امنگ کے اس بے پایاں جوش کا جشن ہے، جس میں کائنات کا ذرہ ذرہ ایک نشاطیہ سرور میں ڈوبا نظر آتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.