“As much as the spirit of life leaves the heart thirsting for coquetry's grace, the wave of wine brings solace with the breath of the water of eternal life.”
جس حد تک نباتاتی روح دل کو محبوب کے ناز و نخرے کا پیاسا بناتی ہے، شراب کی لہر آبِ حیات کی طرح اسے اسی قدر تسکین دیتی ہے۔
غالب اس شعر میں دل کی اس فطری تشنگی کو بیان کر رہے ہیں جو محبوب کے ناز و انداز کی طلب گار رہتی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے نباتات کو اپنی زندگی اور نشوونما کے لیے نمی درکار ہوتی ہے۔ جب جگر اپنے محبوب کی اداؤں کے لیے تڑپتا ہے، تو شراب کی لہر آبِ بقا کا جھونکا بن کر تسکین دیتی ہے۔ گویا یہ کیف و مستی تڑپتی ہوئی روح کے لیے ایک نیا جنم اور لافانی سکون بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
